20 مئی 2015 - 11:16
ایرانی کسی ملک میں مداخلت یا جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا: صدر روحانی

صدر مملکت 'حسن روحانی' نے کہا ہے کہ ایرانی قوم اپنے جوہری مذاکراتی ٹیم کے ارکان کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی اور ہم اپنی قوم سے کہنا چاہتے ہیں کہ مذاکرات کا اختتام ایرانی قوم کی فتح اور سربلندی پر ہوگا.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر مملکت 'حسن روحانی' نے کہا ہے کہ ایرانی قوم اپنے جوہری مذاکراتی ٹیم کے ارکان کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی اور ہم اپنی قوم سے کہنا چاہتے ہیں کہ مذاکرات کا اختتام ایرانی قوم کی فتح اور سربلندی پر ہوگا.

ان خيالات كا اظہار حجت الاسلام و المسلمين حسن روحاني نے بدھ كے روز صوبہ مشرقي آذربائجان كے دارالحكومت 'تبريز' شہر ميں واقع تختي اسٹيڈيم ميں عوام كي ايك بڑي اجتماع سے خطاب كرتے ہوئے كيا.
انہوں نے مشرقي آذربائجان كے مشہور ہيروز اور بہادر شخصيات كو قوم كا قيمتي اساسہ قرار ديتے ہوئے كہا كہ ان بہادروں نے ہميں مزاحمت اور كوشش كرنے كي راہ ديكھائی ہے.
اس موقع پر صدر روحاني نے تبريز كے عوام كے پرتبارك استقبال اور جذبہ خيرسگالي كا شكريہ ادا كرتے ہوئے مزيد كہا كہ مشرقي آذربائجان صوبہ اور تبريز كے شہر سنجيدہ، وفادار اور كھيلوں كا شوق ركھنے والوں كا شہر اور مركز ہے.
گزشتہ دنوں تبريز ميں واقع يادگارہ امام (رہ) اسٹيڈيم كے واقعے كا حوالہ ديتے ہوئے صدر مملكت نے اس بات پر زور ديا كہ تراكتورسازي ٹيم نہ صرف مشرقي آذربائجان كي ٹيم بلكہ پوري ايراني قوم كي ٹيم ہے اور ہماري دلي خواہش ہے كہ ايشيائي مقابلوں ميں اس ٹيم كو فتح حاصل ہوجائے.
انہوں نے اس بات كي يقين دہاني كرائي كہ اسٹيڈم واقعے ميں ملوث عناصر كي شناخت كركے ان كے خلاف سخت كاروائي كي جائے گي.
اس موقع پر علاقائي اور بين الاقوامي تازہ ترين صورتحال كا ذكر كرتے ہوئے ايراني صدر نے كہا كہ اس وقت ہم عالمي سطح پر ايراني فوبيا اور ايران مخالف سازشوں كو سراسر ناكام كررہے ہيں اور ايران اپني قوم، حكومت اور رہبر معظم انقلاب كے درميان ہم آہنگي اور يكجہتي سے دنيائے عالم كو ايران كا مثبت اور پرامن چہرہ اجاگر كرنے ميں اپني كوشش جاري ركھيں گے.
انہوں نے مزيد كہا بين الاقوامي سفارتكاري كي سطح ميں ايران كے بہادر اور ذہين افسران اور حكام اپني قوم كے حقوق كا بھرپور دفاع كررہے ہيں اور آج ہم سياسي، اقتصادي، ثقافتي اور معاشرے كے ميدانوں ميں مقابلے كررہے ہيں.
صدر مملكت نے كہا كہ اس ملك كا اصل مالك ايراني قوم ہيں اور حكومت ان كے خادم ہے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ايران كسي بھي ملك پر جارحيت يا ان كے اندروني مسائل ميں مداخلت كا ارادہ نہيں ركھتا تاہم اگر كسي بھي ملك نے ہمارے وطن عزيز ايران كے خلاف جارحيت كرنے كي جرات كرے تو ہم ڈٹ كر ايسے عزائم كو خاك ميں ملاديں گے.
حسن روحاني نے مزيد كہا كہ صرف ايراني قوم كي حمايت اور دعاؤں سے بين الاقوامي مذاكرات ميں ہم جوہري مسلے پر فتح حاصل كرسكيں گے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲